ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / خواتین کی ہمدردبی جے پی کی ریاست ہریانہ کے روہتک میں انسانیت شرمسار؛ سوتیلے باپ نےکی نابالغ بیٹی کی آبروریزی

خواتین کی ہمدردبی جے پی کی ریاست ہریانہ کے روہتک میں انسانیت شرمسار؛ سوتیلے باپ نےکی نابالغ بیٹی کی آبروریزی

Sun, 14 May 2017 23:42:38    S.O. News Service

روہتک، 14/مئی(ایس او  نیوز/آئی این ایس انڈیا) بی جے پی گڈگورننس کادعویٰ کرتی رہی ہے اورخواتین کی ہمدردہونے کی ڈفلی بجارہی ہے لیکن خواتین کی صورتحال اورلاء اینڈآرڈرانتہائی چوپٹ ہے۔اس کے زیراقتداہریانہ کے روہتک میں نربھیا گینگ ریپ جیسی واردات کے صدمے سے لوگ ابھی باہربھی نہیں نکلے تھے کہ ایک بار پھر یہاں رشتوں کو تار تار کر دینے والی ایک سنسنی خیز واردات سامنے آئی ہے۔

یہاں ایک سوتیلے باپ پر نابالغ بیٹی کی آبروریز ی کرنے اور اسے حاملہ کرنے کا الزام لگا ہے، 5ماہ کی معصوم حاملہ کاعلاج چل رہا ہے۔ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق10سالہ متاثرہ کے پیٹ میں درد کی شکایت کے بعد اس کی ماں چیک اپ کے لیے اسے اسپتا ل لے کر گئی تھی، جہاں ڈاکٹروں نے متاثرہ کے 5ماہ کی حاملہ ہونے کی تصدیق کی۔ڈاکٹروں کاکہناہے کہ متاثرہ کی حالت نازک ہے۔معاملے کا خلاصہ ہونے کے بعد متاثرہ نے بتایا کہ اس کا سوتیلے باپ کافی وقت سے اس کی آبروریزی کر رہا تھا۔ ملزم باپ نے بیٹی کو منہ کھولنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔متاثرہ کے بیان کے بعد اس کی ماں نے پولیس میں اپنے شوہر کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔خاتون کی شکایت پر پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیاہے، خاتون  تارکین وطن مزدور ہے اور بہار کی رہنے والی ہے۔رپورٹوں کے مطابق، خاتون کے شوہر کی موت کے بعد اس نے اپنے دیور(ملزم)کے ساتھ شادی کر لی تھی،فی الحال پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ کو روہتک میں ایک لڑکی کی لاش ملنے سے سنسنی پھیل گئی تھی، درندوں نے لڑکی کی اجتماعی آبروریز ی کر کے اس کے جسم کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا تھا، اتنا ہی نہیں، انہوں نے متوفیہ کے خفیہ اعضاء پر بھی نکیلی چیزوں سے حملہ کیا تھا۔متوفیہ کی شناخت چھپانے کے لیے درندوں نے اس کے چہرے پر کئی بار گاڑی چڑھائی تھی۔اُس معاملے میں پولیس نے  دو ملزمان کو گرفتار کر لیاہے، پولیس کے مطابق، یکطرفہ عشق میں ناکام ہونے کے بعد ملزم نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اس واردات کو انجام دیا تھا۔


Share: